منگل 13 اکتوبر 2026 - 23:13
کراچی میں حافظ شیرازی کی یاد میں ادبی تقریب؛ فارسی و اردو ادب کے تاریخی روابط اور ایران-پاکستان کے مشترکہ تہذیبی ورثے کو اجاگر کیا گیا

حوزہ/خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کراچی کے زیرِ اہتمام عظیم فارسی شاعر اور غزل گو خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی کی یاد میں ایک ادبی و ثقافتی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ممتاز شعراء، ادبا، دانشوروں اور علمی و ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کراچی کے زیرِ اہتمام عظیم فارسی شاعر اور غزل گو خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی کی یاد میں ایک ادبی و ثقافتی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ممتاز شعراء، ادبا، دانشوروں اور علمی و ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔

کراچی میں حافظ شیرازی کی یاد میں ادبی تقریب؛فارسی و اردو ادب کے تاریخی روابط اور ایران_پاکستان کے مشترکہ تہذیبی ورثے کو اجاگر کیا گیا

تقریب میں حافظ شیرازی کی لازوال ادبی و عرفانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ایران و پاکستان کے دیرینہ ادبی و ثقافتی روابط کو اجاگر کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز پاکستانی شاعر و نقاد پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ حافظ شیرازی صرف ایران یا فارسی زبان کا سرمایہ نہیں، بلکہ عالمی ادب و ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کی شاعری میں امید، عشق، معرفت اور انسانی تجربات کی ایسی آفاقی ترجمانی ملتی ہے جو مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے قارئین کو متاثر کرتی ہے۔

کراچی میں حافظ شیرازی کی یاد میں ادبی تقریب؛فارسی و اردو ادب کے تاریخی روابط اور ایران_پاکستان کے مشترکہ تہذیبی ورثے کو اجاگر کیا گیا

انہوں نے برصغیر کی ادبی تاریخ میں فارسی زبان اور حافظ جیسے شعراء کے گہرے اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔

ڈھاکا میں خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کے ڈائریکٹر جنرل مہدی مولائی نے ’’آج کی ڈیجیٹل دنیا میں زندگی کے لیے حافظ سے حاصل ہونے والے اسباق‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حافظ کی فکر آج بھی بامعنی اور ذمہ دارانہ ابلاغ کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

کراچی میں حافظ شیرازی کی یاد میں ادبی تقریب؛فارسی و اردو ادب کے تاریخی روابط اور ایران_پاکستان کے مشترکہ تہذیبی ورثے کو اجاگر کیا گیا


انہوں نے تاریخی و ادبی ورثے سے استفادہ، مستند معلومات کی اہمیت، فکری آزادی، سماجی ذمہ داری اور مؤثر اندازِ بیان کو ڈیجیٹل دور کے اہم اصول قرار دیا۔

خانۂ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کراچی کے نگران قاسم مرادی نے استقبالیہ خطاب میں مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور حافظ شیرازی کی ادبی میراث کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف علمی و ادبی شخصیات کی شرکت کو خوش آئند قرار دیا۔

کراچی میں حافظ شیرازی کی یاد میں ادبی تقریب؛فارسی و اردو ادب کے تاریخی روابط اور ایران_پاکستان کے مشترکہ تہذیبی ورثے کو اجاگر کیا گیا

تقریب کے مہمانِ خصوصی، کراچی میں ایران کے قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا کہ حافظ شیرازی ایران کی تہذیبی شناخت اور ثقافتی استقامت کی علامت ہیں۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مشکل حالات کے باوجود ادبی و ثقافتی ورثے کا تحفظ ایرانی قوم کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کے مطابق، حافظ کی شاعری اور فارسی زبان ایران و پاکستان کے درمیان تاریخی، ادبی اور ثقافتی قربت کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

تقریب کے دوران ایران کے ادبی و ثقافتی ورثے اور حافظ شیرازی کے بارے میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خیالات پر مبنی تصویری مواد بھی پیش کیا گیا۔

اس موقع پر فارسی اور اردو زبانوں میں شاعری پیش کی گئی، جس میں عشق، عرفان، انسان دوستی اور اخلاقی اقدار کے موضوعات نمایاں رہے۔

تقریب کی نظامت ڈاکٹر جواد ہاشمی اور سچل شیرازی نے انجام دی۔

کراچی میں حافظ شیرازی کی یاد میں ادبی تقریب؛فارسی و اردو ادب کے تاریخی روابط اور ایران_پاکستان کے مشترکہ تہذیبی ورثے کو اجاگر کیا گیا

شرکاء میں ڈاکٹر فاطمہ حسن، جاوید صبا، نینا عادل، رخسانہ صبا، شبیر ناشش، بشریٰ زبیری، سحر گل، فہیم شناس کاظمی، فرحان جعفری پیکر، یاسمین راس، ظہیر عباس، اختر کلیم، زیب النساء، ندیم نقوی، ڈاکٹر جاوید منظر اور دیگر ادبی و ثقافتی شخصیات شامل تھیں۔

یہ تقریب حافظ شیرازی کی ادبی عظمت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ فارسی و اردو ادب کے مشترکہ ورثے اور ایران و پاکستان کے دیرینہ تہذیبی روابط کو فروغ دینے کی ایک اہم کاوش ثابت ہوئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha